نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آج سے کوئی عورت میک اپ نہیں کرے گی اور نہ ہی کوئی زیور پہنے گی بادشاہ نے حکم پر عورتیں غصے سے آف بگولہ ہوگئیں


بادشاہ نے اپنی سلطنت میں ہرسُو ہرکارے بھیج کر فرمان جاری کرا دیا کہ کل سے اس کی رعایا میں موجود کوئی بھی عورت نا تو کسی قسم کا زیور پہنے گی اور نا ہی کسی قسم کا بناؤ سنگھار کرے گی.اس فرمان پر عمل کیا ہونا تھا جس نے بھی سنا ہنس دیا کہ لگتا ہے بادشاہ کا دماغ چل گیا ہے.۔جاری ہے۔

عورت ہو اور زیور نا پہنے یا بناؤ سنگھار نا کرے، یہ کیسے ہو سکتا ہے.خود عورتوں کی طرف سے شدید رد عمل آیا، جو عورتیں پہلے زیورات اور بناؤ سنگھار کیا کرتی تھیں انہوں نے پہلے سے زیادہ اور جو عورتیں پہلے نا بناؤ سنگھار کیا کرتی تھی اور نا ہی زیورات پہنتی تھیں انہوں نے یہ سب کچھ اب سے کرنا شروع کر دیا. بات جو شاہی فرمان سے شروع ہوئی تھی اب جگ ہنسائی تک جا پہنچی تھی.بادشاہ نے اپنےدربار میں سب وزیروں مشیروں سے مشورہ چاہا. کوئی کہتا فرمان واپس لے لو تو کوئی کہتا جو عمل نا کرے اس عورت کے خلاف تادیبی کاروائی کرو. بات اب بادشاہ کے وقار، اس کی فرمان برداری یا حکم عدولی سے جا جڑی تھی.باہر کی دنیا کو غلط پیغام جا رہا تھا کہ بادشاہ کا اپنی رعایا پر کوئی رعب و دبدبہ نہیں، رعایا اس کا کہنا نہیں مانتی اور بادشاہ ایک کمزور اور بے اثر حکمران ہے.وزیروں سے مشورے پر بادشاہ کا دل راضی نا ہوا تو اس نے اپنی مملکت میں موجود ایک دانا آدمی کو بلا بھیجا.۔جاری ہے۔


اس دانا حکیم کے آتے ہی بادشاہ نے اسے روہانسا ہو کر بتایا کہ میرا حکم میرے گلے پڑ گیا ہے، واپس لیتا ہوں تو وقار جاتا ہے، طاقت سے نافذ کراتا ہوں تو عوام باغی ہوتی ہے، کیا کروں؟دانا نے کچھ غور و خوض کے بعد بادشاہ سے کہا: بادشاہ سلامت، لوگتیری ویسے اطاعت نہیں کرنا چاہتے جیسے تو چاہتا ہے، بلکہ وہ تیری اطاعت بھی ویسے ہی کرنا چاہتے ہیں جیسے وہ سوچتے ہیں. بادشاہ نے کچھ نا سمجھتے ہوئے پوچھا: تو پھر میں اب کیا کروں، اپنا حکم واپس لے لوں؟دانا نے کہا نہیں، اس کی ضرورت نہیں. آپ ایک اور حکم صادر کیجیئے کہ آج سے میری رعایا میں موجود کوئی خوبصورت عورت یا لڑکی نا تو بناؤ سنگھار کرے گی اور نا ہی زیورات پہنا کرے گی. کیونکہ خوبصورتی زیورات اور بناؤ سنگھار کی محتاج نہیں ہوتی. تاہم وہ ساری لڑکیاں یا عورتیں جو ذرا زیادہ عمر کی ہیں، یا خوبصورت نہیں یا ان کی شکل بری ہے انہیں اس حکم سے استثناء حاصل ہے.۔جاری ہے۔
وہ پورے بناؤ سنگھار ور زیورات پہن کر رہا کریں تاکہ دوسرے لوگوں پر ان کی بری شکل، بڑی اور ڈھلتی عمر کا برا اثر نا پڑے. اور ان کی بد صورتی بھی چھپی رہا کرے.اس بار اس حکم کا خوب اثر ہوا اور چند ہی دنوں میں سب عورتوں نے اپنے زیورات اور بناؤ سنگھار اُتار پھینکے کیونکہ ہر عورت اپنے آپ کو حسین و جمیل اور مناسب عمر کی جانتی تھی اور ہر ایک کی یہی سوچ تھی کہ اس کا حسن و جمال کسی زیور اور بناؤ سنگھار کا محتاج نہیں.دانا کا بادشاہ سے کہنا تھا کہ اب آپ کی رعایا آپ کی اطاعت کرے گی۔جاری ہے۔


کیونکہ اب آپ نے اُن کی عقل سے سوچا ہےاور انہیں کے شعور کے مطابق فیصلہ لیا ہے.مناسب لفظوں کا چناؤ اور ایک درست فقرے کی صحیح ترتیب ہی دلوں کو جیتنے ک فن ہوا کرتا ہے. خاص طور وہ لوگ جو تربیتی اداروں سے جڑے ہوتے ہیں ان کیلیئے تو یہ علم اور بھی ضروری ہوا کرتا ہے کہ کہ وہ اپنے بیانات میں کیسے مانگی جانے والی چیزوں کا ذکر کریں، انکاری کی جانے والی چیزوں سے ہٹ کر رہیں اور تب جا کر فرض کی جانے والی چیزوں کا ذکر کریں تاکہ ان کے سامعین اور ناظرین ان کی باتوں پر علم کرنے کا عزم کریں.یاد رکھیئے۔جاری ہے۔


دلوں پرکوئی چیز بھی حکومت نہیں کر سکتی ہاں مگر اچھی اور لطیف گفتگو اور مسکراتے ہوئے چہرے. بقولہ تعالیٰ:یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورت کی وہ 5باتیں جو وہ کسی کو نہیں بتانا چاہتی ۔۔ مگر ایک مرد کیلئے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کیونکہ ۔۔!

عورتیں چاہتی ہیں کہ ان کے مرد یہ راز جان جائیں’’ ہم میاں بیوی ایک دوسرے کو بے پناہ چاہتے ہیں ، پھر بھی ہماری جنسی زندگی کچھ ٹھیک نہیں جارہی ۔‘‘یہ شکایت ایک پڑھی لکھی خاتون نے کی ہے ۔ وہ ہائی سکول میں ٹیچر ہے اور خاصی ذہین اور سمجھدار ہے ۔اچھا تو کیا تم نے اپنے شوہر سے اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے ؟ میں نے زرینہ سے اس کی شکایت سن کر کہا ۔ اس کا شوہر لاہور کے ایک ہسپتال میں معروف ڈاکٹر ہے ۔ دونوں کی شادی کو بارہ برس بیت چکے ہیں۔ میں جب کبھی ان کے گھر جاتا ہوں تو ایک خوش باش اور معقول حد تک کامیاب گھرانے کا احساس ہوتا ہے ۔ زرینہ اپنی شکایت نوک زبان پر نہ لاتی تو مجھے ان کی ازدواجی زندگی میں اس خامی کا کبھی احساس نہیں ہوسکتا تھا میں اس سے ہربات کرسکتی ہوں۔لیکن بابا، میں سیکس پر بات نہیں کرسکتی ۔ ہمت ہی نہیں پڑتی ۔ زرینہ کہنے لگی ۔ آخر میں اسے کیسے بتاؤں کہ میں کیا چاہتی ہوں ۔آپ جانتے ہیں کہ یہ صرف زرینہ کا مسئلہ نہیں ۔ مختلف تعلیمی اور سماجی حیثیت رکھنے والی عورتوں کو اکثر اوقات اسی قسم کے احساسات ہوا کرتے ہیں اس کے علاوہ یہ صرف ہمارے ملک کا معاملہ نہیں ہے۔ امریکا جیسے ترقی یافتہ ا...

آدھے سر کے درد سے چھٹکارا پائیں

لاہور(نیوز ڈیسک):سر درد کا شکار عمر رسیدہ افراد ہی نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات کم عمر نوجوان بھی سر میں درد کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ کیفیت اتنی عام ہوگئی ہے کہ لوگ اس کا علاج کروانے کے لئے اب ڈاکٹرز کے پاس جانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔تفصیلات کے مطابق دواو¿ں کے استعمال کے بجائے جسم کے کچھ حصوں پر مساج کرنے سے صرف 5 منٹ میں سر کے درد سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔سر میں درد کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔کسی کوآدھے سر کا درد ہوتا ہے تو کسی کو آنکھوں کے اوپری حصے میں درد کی شکایت ہوتی ہے لہٰذا وہ افراد جو اپنی آنکھوں میں یا ان کے ارد گرد درد محسوس کریں تو انہیں چاہیے کہ دونوں بھنوو¿ں کے درمیانی حصے پر 60 سیکنڈ تک دائرے کی شکل میں مساج کریں۔ اس طریقے پر عمل کرکے سر کے درد میں فوری آرام آتا ہے۔میگرین یعنی آدھے سر کے درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے سر کے پچھلے حصے میں دو گڑھے محسوس ہوں گے، ان پر انگوٹھوں کی مدد سے دباؤڈالیے اور تقریباً 5 منٹ تک اسی حالت میں رہیے۔ اب یہاں پر ہلکے ہاتھ سے مساج کیجیے۔ہاتھ کے پچھلے حصے پر انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان مساج کیجیے۔ یہ مقام ہات...

ایک مرد کس طرح کی عورت سے شادی کرنا پسند کرتا ہے ایک کنوارہ آدمی کس طرح کی بیوی سے شادی کرنا چاہتا ہے

ایک مرد کو کس طرح کی بیوی چاہیے جب اسے پوچھا گیا تو اس نے بتایا۔جاری ہے۔ ایک اچھی عورت کم ازکم یہ خوبیاں تو لازمی ہونی چاہیے کھڑی ہو تو لمبے قد کی ہو بیٹھی ہو تو نمایاں نظر آئے گفتگو کرے تو سچ بولے اس کو غصہ دلایا جائےتو بردباری کا مظاہرہ کرے ہنسے تو صرف مسکراہٹ بکھرے کھانا پکائے تو نہایت لذیذ اپنے خاوند کی فرمانبردار ہو۔جاری ہے۔ میری توند کیسے ختم ہوئی۔ 3 ہفتوں میں 56 کلو ممکن۔ سونے سے پہلے ایک گلاس پیئیں۔۔ اپنے گھر سے محبت کرنے والی اورکم سے کم گھر سے باہر نکلنے والی ہو اپنی قوم میں نہایت عزیز اور باوقار ہو۔جاری ہے۔ مگر انتہائی متواضع اور منکسر مزاج ہو خاوند سے محبت کرنے والی اور کژت سے اولاد جننے والی ہو پھر اس کا ہر کام نہایت پسندیدہ ہوگا