نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Stories لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں دو انبیا کرام ؑ کی قبور مبارکہ موجود ہیں ؟

اسلام آباد(نیو زڈیسک )زمین تخلیق ہوئی ۔ انسانوں کو اس پر بسایا گیا۔ انہیں ایک مخصوص طریقہ حیات کے متعلق سمجھایا گیا اور بتا دیا گیا کہ یہ وہ طریقہ ہے جس پر عمل کر کے تم لوگ فلاح پا جائو گے ۔جب انسان بھٹکے تو خالق کائنات نے اپنی مخلوق کو سیدھی راہ بتانے کیلئے انبیا و مرسلین ان پر مبعوث کیے۔ وہ آئے اور اپنے مقرر کردہ وقتتک لوگوں کو سیدھی راہ کی ترغیب دیتے رہے اور پھر دنیائے فانی کو الوداع کہہ کر سفر آخرت اختیار کر لیا۔ آج بھی ان انبیا کرام کے مزارات مبارکہ بنی نوع انسان کو سیدھی راہ کی طرف آنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔سرزمین عرب میں کئی انبیا کے مزارات مقدسہ موجود ہیں لیکن آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ کے دو انبیا کی قبریں موجود ہیں جن میں سے ایک حضرت قنبیط ؑ جو کہ حضرت آدم ؑ کے بیٹے تھے جن کی 270فٹ لمبی قبر ضلع گجرات کے ایک گائوں بڑیلہ شریف میں موجود ہے جبکہ ایک اور نبی اللہ حضرت حامؑ جو کہ حضرت نوحؑ کے بیٹے تھے جن کی قبرپاکستان میں 1891میں حافظ شمس الدین آف گلیانہ گجرات نےضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے گائوں روال میں دریافت کی۔ ان کے مزار کی لمبا...

ایک مرد کس طرح کی عورت سے شادی کرنا پسند کرتا ہے ایک کنوارہ آدمی کس طرح کی بیوی سے شادی کرنا چاہتا ہے

ایک مرد کو کس طرح کی بیوی چاہیے جب اسے پوچھا گیا تو اس نے بتایا۔جاری ہے۔ ایک اچھی عورت کم ازکم یہ خوبیاں تو لازمی ہونی چاہیے کھڑی ہو تو لمبے قد کی ہو بیٹھی ہو تو نمایاں نظر آئے گفتگو کرے تو سچ بولے اس کو غصہ دلایا جائےتو بردباری کا مظاہرہ کرے ہنسے تو صرف مسکراہٹ بکھرے کھانا پکائے تو نہایت لذیذ اپنے خاوند کی فرمانبردار ہو۔جاری ہے۔ میری توند کیسے ختم ہوئی۔ 3 ہفتوں میں 56 کلو ممکن۔ سونے سے پہلے ایک گلاس پیئیں۔۔ اپنے گھر سے محبت کرنے والی اورکم سے کم گھر سے باہر نکلنے والی ہو اپنی قوم میں نہایت عزیز اور باوقار ہو۔جاری ہے۔ مگر انتہائی متواضع اور منکسر مزاج ہو خاوند سے محبت کرنے والی اور کژت سے اولاد جننے والی ہو پھر اس کا ہر کام نہایت پسندیدہ ہوگا

ایک نوجوان کی نئی نئی شادی ہوئی وہ باپ کے پاس کچھ مشورے لینے گیا تو باپ نے

وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے کہ وہ اس کے اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کرےجب وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے اس کا والد اُس سے ایک کاغذ اور قلم مانگتا ہےلڑکا کہتا ہے : کیوں ابا جان ؟ اس وقت تو میرے پاس قلم اور کاغذ نہیں۔جاری ہے۔ باپ کہتا ہے : تو جاؤ ایک کاغذ ،قلم اور ربڑ خرید کر لاؤلڑکا شدید حیرانگی کے ساتھ جاتا ہے اور مطلوبہ چیزیں لیکر آجاتا ہے اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہےباپ : لکھوکیا لکھوںجو جی چاہے لکھونوجوان ایک جملہ لکھتا ہےباپ کہتا ہے : اسے مٹا د ونوجوان مٹا دیتا ہےباپ : لکھوبیٹا : خدارا آپ کیا چاہتے ہیں ؟باپ کہتا ہے : لکھو۔جاری ہے۔ نوجوان پھر لکھتا ہےباپ کہتا ہے : مٹا دولڑکا مٹا دیتا ہےباپ پھر کہتا ہے : لکھونوجوان کہتا ہے : اللہ کے لیے مجھے بتائیں یہ سب کچھ کیا ہےباپ کہتا ہے : لکھونوجوان لکھتا ہےباپ کہتا ہے مٹا دو ۔ لڑکا مٹا دیتا ہےپھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہے اور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے :بیٹا شادی کے بعد اریزر کی ضرورت ہوتی ہے۔جاری ہے۔ اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربڑ نہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکواور...

ایک شخص کے تین بیٹے تھے جب وہ مرنے لگا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔

کہتے ہیں کسی جگہ ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے۔ اس شخص نے اپنے ان تینوں بیٹوں کے نام “ حجر” رکھے ہوئے تھے۔ دن گزرتے رہے حتیٰ کہ اسے مرض الموت نے آن لیا۔ اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلا کر وصیت کی کہ حجر کو وراثت ملے گی، حجر کو وراثت نہیں ملے گی اور حجر کو وراثت ملے گی۔۔۔جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی روح قبض ہوگئی۔ یہ خود تو فوت ہو گیا مگر اپنے بیٹوں کو حیرت میں ڈال گیا کہ کیسے فیصلہ کریں کن دو حجر کو وراثت ملے اور اور کس ایک کو نہیں ملے گی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ شہر جا کر قاضی سے اپنا مسئلہ بیان کریں اور اس سے کوئی حل مانگیں۔تینوں اپنے زاد راہ کے ساتھ شہر کیلئے عازم سفر ہوئے۔ راستے میں انہوں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو اپنی کسی گم شدہ چیز کو تلاش کرتا پھرتا تھا۔ ان بھائیوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کی اونٹنی گم ہو گئی ہے جسے وہ تلاش کرتا پھر رہا ہے۔ ایک حجر نے پوچھا کیا تیری اونٹنی ایک آنکھ سے کانی تھی۔ اس آدمی نے کہا ہاں ہاں، ایسا ہی تھا۔دوسرے حجر نے پوچھا کیا تیری اونٹنی ایک ٹانگ سے لنگڑی تھی تو اس آدمی نے جلدی سے کہا، بالکل صحیح، میری اونٹنی واقعی ایک ٹانگ سے ل...

آج سے کوئی عورت میک اپ نہیں کرے گی اور نہ ہی کوئی زیور پہنے گی بادشاہ نے حکم پر عورتیں غصے سے آف بگولہ ہوگئیں

بادشاہ نے اپنی سلطنت میں ہرسُو ہرکارے بھیج کر فرمان جاری کرا دیا کہ کل سے اس کی رعایا میں موجود کوئی بھی عورت نا تو کسی قسم کا زیور پہنے گی اور نا ہی کسی قسم کا بناؤ سنگھار کرے گی.اس فرمان پر عمل کیا ہونا تھا جس نے بھی سنا ہنس دیا کہ لگتا ہے بادشاہ کا دماغ چل گیا ہے.۔جاری ہے۔ عورت ہو اور زیور نا پہنے یا بناؤ سنگھار نا کرے، یہ کیسے ہو سکتا ہے.خود عورتوں کی طرف سے شدید رد عمل آیا، جو عورتیں پہلے زیورات اور بناؤ سنگھار کیا کرتی تھیں انہوں نے پہلے سے زیادہ اور جو عورتیں پہلے نا بناؤ سنگھار کیا کرتی تھی اور نا ہی زیورات پہنتی تھیں انہوں نے یہ سب کچھ اب سے کرنا شروع کر دیا. بات جو شاہی فرمان سے شروع ہوئی تھی اب جگ ہنسائی تک جا پہنچی تھی.بادشاہ نے اپنےدربار میں سب وزیروں مشیروں سے مشورہ چاہا. کوئی کہتا فرمان واپس لے لو تو کوئی کہتا جو عمل نا کرے اس عورت کے خلاف تادیبی کاروائی کرو. بات اب بادشاہ کے وقار، اس کی فرمان برداری یا حکم عدولی سے جا جڑی تھی.باہر کی دنیا کو غلط پیغام جا رہا تھا کہ بادشاہ کا اپنی رعایا پر کوئی رعب و دبدبہ نہیں، رعایا اس کا کہنا نہیں مانتی اور بادشاہ ایک کمزور ...

وہ لڑکی اپنے بیگ کی تلاشی نہیں دے رہی تھی ایک رلا دینے والا واقعہ

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو۔۔۔ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا‘۔جاری ہے۔ کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں ”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو ”نہیں ۔۔کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی ۔۔۔ٹیچر آگے بڑھی ...